دکھائی دیتا ہوں اپنے سبب سے ہوتا ہوا
وگرنہ کام یہاں کیا ہے ڈھب سے ہوتا ہوا
کہاں نکلتا ہوں جا کر خبر نہیں مجھ کو
گزر رہا ہوں ترے چشم و لب سے ہوتا ہوا
میں مر نہ جاؤں نکل کر تمھارے رستے سے
کہ میں تو ہوں ہی تمہاری طلب سے ہوتا ہوا
گروں گا جا ابد آباد کے سمندر میں
انہیں جھلستے ہوئے روز و شب سے ہوتا ہوا
اتر ہی جاؤں گا اس دل میں آفتاب حسینؔ
کہ راستہ سا تو ہے کنج لب سے ہوتا ہوا
آفتاب حسین
Dikhai deta hoon apne sabab se hota hua
Wagarna kaam yahan kya hai dhab se hota hua
Kahan nikalta hoon ja kar khabar nahin mujh ko
Guzar raha hoon tere chashm-o-lab se hota hua
Main mar na jaun nikal kar tumhare raste se
Ke main to hoon hi tumhari talab se hota hua
Garunga ja abad abad ke samandar mein
Unhein jhulsate hue roz-o-shab se hota hua
Utar hi jaunga is dil mein Aftab Hussain
Ke rasta sa to hai kunj-e-lab se hota hua
آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...
مکمل تعارف پڑھیں