آفتاب حسین — شاعر کی تصویر

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے — آفتاب حسین

شاعر

تعارف شاعری

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے
سو کرتا رہتا ہوں جس کام پر لگایا ہوا ہے
غلط پڑے نہ کہیں پہلا ہی قدم یہ ہمارا
کہ ہم نے آنکھ کو انجام پر لگایا ہوا ہے
تمام شہر مشرف بہ کفر ہو کے رہے گا
یہ جس قماش کے اسلام پر لگایا ہوا ہے
لگا رکھے ہیں ہزاروں ہی اپنے کام پر اس نے
ہمیں بھی کوشش ناکام پر لگایا ہوا ہے
پلاتا رہتا ہوں دن رات اپنی آنکھ سے پانی
شجر یہ دل میں ترے نام پر لگایا ہوا ہے
وہ اور ہوں گے جو آرام سے گزار رہے ہیں
ہمیں تو اس نے کہیں لام پر لگایا ہوا ہے

Kisi nazar ne mujhe jaam par lagaya hua hai

Kisi nazar ne mujhe jaam par lagaya hua hai
So karta rehta hoon jis kaam par lagaya hua hai
Ghalat paṛe na kahin pehla hi qadam yeh hamara
Ke hum ne aankh ko anjaam par lagaya hua hai
Tamam shahar musharraf ba-kufr ho ke reh jaayega
Yeh jis qamaash ke Islam par lagaya hua hai
Laga rakhe hain hazaron hi apne kaam par us ne
Hamein bhi koshish-e-nakaam par lagaya hua hai
Pilata rehta hoon din raat apni aankh se paani
Shajar yeh dil mein tere naam par lagaya hua hai
Woh aur honge jo aaram se guzar rahe hain
Hamein toh us ne kahin laam par lagaya hua hai

شاعر کے بارے میں

آفتاب حسین

آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام