آفتاب حسین — شاعر کی تصویر

نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہے — آفتاب حسین

شاعر

تعارف شاعری

نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہے

نہیں کہ دل میں محبت زیادہ ہو گئی ہے
ہمیں اب اس کی ضرورت زیادہ ہو گئی ہے
خدا کا شکر بھی کرنے میں کم نہیں ہم لوگ
کہیں کہیں جو شکایت زیادہ ہو گئی ہے
کوئی بھی کام ادھر ٹھیک بیٹھتا ہی نہیں
میں کیا کروں مجھے فرصت زیادہ ہو گئی ہے
یہی نہیں کہ ہمیں اس نے حوصلہ دیا ہے
ہماری اپنی بھی ہمت زیادہ ہو گئی ہے
گزرتا جاتا ہوں نام و نشاں مٹاتا ہوا
جدھر جدھر مری شہرت زیادہ ہو گئی ہے
لگائیے کہیں دل اور آفتاب حسینؔ
سرائے خواب میں صحبت زیادہ ہو گئی ہے

Nahin ke dil mein mohabbat ziyada ho gayi hai

Nahin ke dil mein mohabbat ziyada ho gayi hai
Hamein ab is ki zarurat ziyada ho gayi hai
Khuda ka shukr bhi karne mein kam nahin hum log
Kahin kahin jo shikayat ziyada ho gayi hai
Koi bhi kaam idhar theek baithta hi nahin
Main kya karun mujhe fursat ziyada ho gayi hai
Yahi nahin ke hamein us ne hausla diya hai
Hamari apni bhi himmat ziyada ho gayi hai
Guzarta jata hoon nam-o-nishan mitata hua
Jidhar jidhar meri shohrat ziyada ho gayi hai
Lagaiye kahin dil aur Aftab Hussain
Sarai-e-khwab mein sohbat ziyada ho gayi hai

شاعر کے بارے میں

آفتاب حسین

آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام