رخ بدلتے ہی چلے جائیے گا
چال چلتے ہی چلے جائیے گا
سوچیے تو کبھی بہلانے کی بھی
یا بہلتے ہی چلے جائیے گا
دل کے رستے پہ ہے ایسی پھسلن
کہ پھسلتے ہی چلے جائیے گا
مرحلہ رات کا سر کر لیجے
دن نکلتے ہی چلے جائیے گا
ہاتھ بھی ڈالیے اس پر کہ یوںہی
ہاتھ ملتے ہی چلے جائیے گا
کیا ہوا ہیں جو سوا نیزے پہ آپ
ابھی ڈھلتے ہی چلے جائیے گا
دو قدم پر ہے محبت کی گلی
چلتے چلتے ہی چلے جائیے گا
آفتاب حسین
Rukh badalte hi chale jaiyega
Chaal chalte hi chale jaiyega
Sochiye to kabhi behlane ki bhi
Ya behalte hi chale jaiyega
Dil ke raste pe hai aisi phislan
Ke phisalte hi chale jaiyega
Marhala raat ka sar kar leejiye
Din nikalte hi chale jaiyega
Haath bhi daaliye us par ke yunhi
Haath malte hi chale jaiyega
Kya hua hain jo sava neze pe aap
Abhi dhalte hi chale jaiyega
Do qadam par hai mohabbat ki gali
Chalte chalte hi chale jaiyega
آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...
مکمل تعارف پڑھیں