شفق ہے شعلہ فشاں شام ہونے والی ہے
نظر نظر ہے دھواں شام ہونے والی ہے
یہ وقت وہ ہے پرندے گھروں کو لوٹتے ہیں
بھٹک رہا ہوں کہاں شام ہونے والی ہے
ترے افق پہ صدا صبح جگمگاتی رہے
میں جس جگہ ہوں وہاں شام ہونے والی ہے
یہ کاروبار محبت سہی مگر صاحب
بڑھائیے بھی دکاں شام ہونے والی ہے
وہ آفتابؔ کہ نصف النہار پر ہے ابھی
تو کس لیے ہے گماں شام ہونے والی ہے
آفتاب حسین
Shafaq hai shola-fishan shaam hone wali hai
Nazar nazar hai dhuan shaam hone wali hai
Ye waqt woh hai parinde gharon ko lautte hain
Bhatak raha hoon kahan shaam hone wali hai
Tere ufaq pe sada subah jagmagati rahe
Main jis jagah hoon wahan shaam hone wali hai
Ye karobar-e-mohabbat sahi magar sahib
Badhaiye bhi dukan shaam hone wali hai
Woh Aftab ke nisf-un-nahaar par hai abhi
To kis liye hai guman shaam hone wali hai
آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...
مکمل تعارف پڑھیں