آفتاب حسین — شاعر کی تصویر

سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہے — آفتاب حسین

شاعر

تعارف شاعری

سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہے

سخن کی گرمئ بازار سے زیادہ ہے
جو کہہ رہا ہوں وہ اظہار سے زیادہ ہے
لگے ہوئے ہیں جو یہ ڈھیر سے خیالوں کے
یہ مال قحط خریدار سے زیادا ہے
میں چل رہا ہوں مسلسل مگر یہ سوچتا ہوں
کہ راستہ مری رفتار سے زیادہ ہے
اتر گئی مرے سر سے عذاب کی صورت
وہ آگہی کہ جو آزار سے زیادہ ہے
کچھ اس سے اور تعلق تو کیا بنا ہو گا
بس اس قدر ہے کہ دیدار سے زیادہ ہے

Sukhan ki garmi-e-bazaar se ziyada hai

Sukhan ki garmi-e-bazaar se ziyada hai
Jo keh raha hoon woh izhar se ziyada hai
Lage hue hain jo yeh dher se khayalon ke
Yeh maal qaht-e-kharidaar se ziyada hai
Main chal raha hoon musalsal magar yeh sochta hoon
Ke rasta meri raftaar se ziyada hai
Utar gai mere sar se azaab ki surat
Woh aagahi ke jo azaar se ziyada hai
Kuchh is se aur ta'alluq to kya bana hoga
Bas is qadar hai ke deedaar se ziyada hai

شاعر کے بارے میں

آفتاب حسین

آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام