آل رضا رضا — شاعر کی تصویر

آج یوں دل نے ان کا نام لیا — آل رضا رضا

شاعر

تعارف شاعری

آج یوں دل نے ان کا نام لیا

آج یوں دل نے ان کا نام لیا
جیسے گرتے ہوئے کو تھام لیا
ہم نے بے انتہا وفا کر کے
بے وفاؤں سے انتقام لیا
مجھ کو کہنا تھا تم سے کیا کیا کچھ
تم نے بھی کس نظر سے کام لیا
بات پوری نہ کر سکے ان سے
جب لیا عہد ناتمام لیا
جیسے پہلے کبھی ملی ہی نہ تھیں
ان نگاہوں نے یوں سلام لیا
واہ ذکر حبیب کیا کہنا
آہ کس بے وفا کا نام لیا
تھا تو ان سے گلہ رضاؔ لیکن
اپنے ہی دل سے انتقام لیا

Aaj yun dil ne un ka naam liya

Aaj yun dil ne un ka naam liya
Jaise girte hue ko thaam liya
Hum ne be-inteha wafa kar ke
Bewafaon se intiqam liya
Mujh ko kehna tha tum se kya kya kuch
Tum ne bhi kis nazar se kaam liya
Baat poori na kar sake un se
Jab liya ahd na-tamam liya
Jaise pehle kabhi mili hi na theen
Un nigahon ne yun salam liya
Wah zikr-e-habib kya kehna
Aah kis bewafa ka naam liya
Tha toh un se gila Raza, lekin
Apne hi dil se intiqam liya

شاعر کے بارے میں

آل رضا رضا

سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام