دن ہے بھاری غم فرقت کے گرفتاروں پر
رات کٹتی ہے دہکتے ہوئے انگاروں پر
حسن والوں کی خدائی ہے خدائی برہم
کس کو رحم آئے محبت کے گنہگاروں پر
پھونک دے برق نشیمن کو چمک کر نہ ڈرائے
آنکھیں اب رکھی نہیں جاتی ہیں انگاروں پر
دل کی قیمت نہیں کوئی کہ یہی ایک ہے دل
میں نے خود چھوڑ دیا مول خریداروں پر
عاشقی کو جو گدائی سے ملایا نہ رضاؔ
تو رعونت کا بھی الزام ہے خودداروں پر
آل رضا رضا
Din hai bhaari gham-e-furqat ke giraftaron par
Raat katti hai dahakte hue angaaron par
Husn walon ki khudai hai khudai barham
Kis ko reham aaye mohabbat ke gunahgaron par
Phoonk de barq nasheman ko chamak kar na daraye
Aankhen ab rakhi nahin jaati hain angaaron par
Dil ki qeemat nahin koi ke yahi ek hai dil
Main ne khud chhoṛ diya mol khareedaron par
Aashiqi ko jo gadai se milaya na Raza
To ra'oonat ka bhi ilzaam hai khuddaron par
سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...
مکمل تعارف پڑھیں