اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا
جب تم نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہے گا
دنیا میں رہے سلسلۂ حسن مجھے کیا
اے وقت مرا عہد تمنا نہ رہے گا
شاید کوئی حد سیل تمنا کی ہو لیکن
دھارا تو یہ کہتا ہے کنارا نہ رہے گا
بیٹھے تھے گھنی چھاؤں میں اس کی نہ خبر تھی
بڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا
جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہم
بڑھ جائے گی دھوپ اور یہ سایا نہ رہے گا
جب دیکھ کے خوش ہوتے تھے کیا جانتے تھے ہم
رہ جائیں گی آنکھیں یہ تماشا نہ رہے گا
سمجھا تھا نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا رضاؔ کچھ
دیوانہ تھا دیوانہ ہے دیوانہ رہے گا
آل رضا رضا
Ab hum ko kisi se koi shikwa na rahe ga
Jab tum na rahe koi hamara na rahe ga
Duniya mein rahe silsila-e-husn mujhe kya
Ae waqt mera ahd-e-tamanna na rahe ga
Shayad koi had-e-sail-e-tamanna ki ho lekin
Dhara toh yeh kehta hai kinara na rahe ga
Baithe the ghani chhaon mein us ki na khabar thi
Badh jayegi dhoop aur yeh saya na rahe ga
Jab dekh ke khush hote the kya jaante the hum
Badh jayegi dhoop aur yeh saya na rahe ga
Jab dekh ke khush hote the kya jaante the hum
Reh jayengi aankhein yeh tamasha na rahe ga
Samjha tha na samjha hai na samjhega Raza kuch
Deewana tha deewana hai deewana rahe ga
سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...
مکمل تعارف پڑھیں