تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا
بہت ترسے ہیں ساقی ایک پیمانے سے کیا ہوگا
جو آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں جھٹلانے سے کیا ہوگا
نظر تڑپا رہی ہے دل کو بہلانے سے کیا ہوگا
نشیمن کی بنا رکھی ہے کچھ تو سوچ کر ہم نے
چما چم بجلیاں ہر سو چمک جانے سے کیا ہوگا
محبت نے کہا تیار کر کے پہلا دیوانہ
ابھی لاکھوں بنیں گے ایک دیوانے سے کیا ہوگا
ہزاروں انقلاب درد ہیں کروٹ سے کروٹ تک
تڑپتے ہی رہو پہلو بدل جانے سے کیا ہوگا
رضاؔ دیکھو جو تم ان کی طرف سے دل میں کہتے تھے
طبیعت میں ذرا سا انقلاب آنے سے کیا ہوگا
آل رضا رضا
Teri sookhe hue honton pe aa jaane se kya hoga
Bohat tarse hain saaqi ek paimane se kya hoga
Jo aankhein dekhti rehti hain jhutlane se kya hoga
Nazar tadpa rahi hai dil ko behlane se kya hoga
Nasheeman ki bana rakhi hai kuch to soch kar hum ne
Chama cham bijliyan har soo chamak jaane se kya hoga
Mohabbat ne kaha tayyar kar kar ke pehla deewana
Abhi lakhon banenge ek deewane se kya hoga
Hazaron inqilab-e-dard hain karwat se karwat tak
Tarapte hi raho pehlu badal jaane se kya hoga
Razaؔ dekho jo tum un ki taraf se dil mein kehte thay
Tabiyat mein zara sa inqilab aane se kya hoga
سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...
مکمل تعارف پڑھیں