یہی اچھا ہے جو اس طرح مٹائے کوئی
آپ بھی پھر مجھے ڈھونڈے تو نہ پائے کوئی
کوندتی برق نہ دیتی ہو جہاں فرصت دید
تاب کیا ہے جو وہاں آنکھ اٹھائے کوئی
بندشیں عشق میں دنیا سے نرالی دیکھیں
دل تڑپ جائے مگر لب نہ ہلائے کوئی
آل رضا رضا
Yehi achha hai jo is tarah mitaye koi
Aap bhi phir mujhe dhunde toh na paaye koi
Kaundti barq na deti ho jahan fursat-e-deed
Taab kya hai jo wahan aankh uthaye koi
Bandishein ishq mein duniya se nirali dekhein
Dil tadap jaye magar lab na hilaye koi
سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...
مکمل تعارف پڑھیں