یہ راہیں خود بخود پوچھیں گی تم سے
کہاں تم جاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے
اشارے کون سمجھے گا تمہارے
کسے سمجھاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے
ابھی اشکوں میں پنہاں ہے تبسم
خوشی کیا پاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے
زمانہ توڑ دے گا شیشۂ دل
بہت گھبراؤگے جب ہم نہ ہوں گے
تغافل کی سزا تم کو ملے گی
بہت پچھتاؤ گے جب ہم نہ ہوں گے
باقر مہدی
Yeh raahein khud ba khud poochhengi tum se
Kahaan tum jaaoge jab hum na honge
Ishaare kaun samjhega tumhare
Kise samjhaaoge jab hum na honge
Abhi ashkon mein pinhaan hai tabassum
Khushi kya paaoge jab hum na honge
Zamana tod dega sheesha-e-dil
Bahut ghabraoge jab hum na honge
Taghaful ki saza tum ko milegi
Bahut pachtaoge jab hum na honge
باقر مہدی اردو کے معروف شاعر، نقاد، دانش ور اور جدید حسیت کے نمائندہ ادیب تھے، جنہوں نے اپنی بے باک فکر، خوددار مزاج اور غیر مصلحت پسند رویّے کے باعث اردو ادب میں منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 11 فروری 1927ء کو رُدولی، ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش میں ایک علمی اور زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رزم رودولوی خود شاعر تھے، اس لیے گھر کا ماحول ادبی ...
مکمل تعارف پڑھیں