6 اشعار

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا

Kya Tum Se Kahun Mujh Se Wo Kya Puchh Raha Tha

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا

«کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا» مصطفی دلکش کا کلام ہے، جسے فکر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھامجھ سے ہی میرے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا

نفرت کے اسیروں سے مری سادگی دیکھومیں درد محبت کی دوا پوچھ رہا تھا

بے باک نگاہوں کی طرف دیکھ کے میرادل مجھ سے تڑپنے کا مزا پوچھ رہا تھا

کیوں کر نہ کیا یاد مجھے وقت مصیبتلوگوں سے محبت کا خدا پوچھ رہا تھا

اقرار محبت کا یہ انداز عجب ہےوہ کرکے خطا میری خطا پوچھ رہا تھا

شاید وہ اسی بات پہ رونے لگے دلکشؔمیں جرم محبت کی سزا پوچھ رہا تھا

— مصطفی دلکش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں