شاعر · 1954 – · گجرات، پاکستان

نصیر احمد ناصر

Naseer Ahmed Nasir

30
منتخب کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

نصیر احمد ناصرؔ اردو کے معاصر شعرا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ یکم اپریل ۱۹۵۴ء کو گجرات، پنجاب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کھاریاں میں حاصل کی۔ ان کا شمار جدید اردو نظم کے اہم تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نظم، غزل اور ہائیکو کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا، تاہم ان کی بنیادی ادبی شناخت نظم نگاری اور ہائیکو سے وابستہ ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی وجود، تنہائی، خواب، یاد، وقت، فطرت اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کو علامتی اور استعاراتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
نصیر احمد ناصرؔ کی شعری تصانیف میں ’’زرد پتوں کی شال‘‘، ’’پانی میں گم خواب‘‘، ’’تیسرے قدم کا خمیازہ‘‘، ’’ملبے سے ملی چیزیں‘‘، ’’سرمئی نیند کی بازگشت‘‘ اور ’’عرابچی سو گیا ہے‘‘ شامل ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’زرد پتوں کی شال‘‘ ۱۹۹۳ء میں شائع ہوا، جس میں ان کی ہائیکو نگاری کے نمونے شامل ہیں اور جس کا پیش لفظ ڈاکٹر وزیر آغا نے تحریر کیا۔ ان کی شاعری میں اختصار کے اندر معنویت پیدا کرنے، روزمرہ مناظر کو گہرے انسانی تجربات سے جوڑنے اور نئے شعری استعارے تخلیق کرنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔
شاعری کے ساتھ ساتھ نصیر احمد ناصرؔ نے ادبی صحافت کے میدان میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ وہ ادبی جریدے ’’تسطیر‘‘ کے مدیر اور ناشر رہے، جس کے ذریعے انہوں نے اردو ادب، تنقید اور تخلیقی مباحث کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا اور نئے ادیبوں کو اظہار کا موقع فراہم کیا۔ ان کی شاعری پر جامعات کی سطح پر تحقیقی کام بھی کیا گیا ہے، جو ان کے ادبی مقام اور تخلیقی اہمیت کا اعتراف ہے۔ جدید اردو نظم اور ہائیکو کے حوالے سے ان کی ادبی خدمات انہیں معاصر اردو ادب کی ایک منفرد اور قابلِ ذکر آواز بناتی ہیں۔

منتخب اشعار

بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر

ایک دریا کہ ہے کنارے پر

پورا کلام ‹

لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی

جب سے ترے بدن کی اکائی مجھے ملی

پورا کلام ‹
  1. 01 بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر Bah raha hai zamin ke dhare par غزل
  2. 02 لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili غزل
  3. 03 ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta غزل
  4. 04 تاریخ ٹسوے بہائے گی Tareekh Tasway Bahaye Gi نظم
  5. 05 گنبدوں کے درمیاں Gumbadon Ke Darmiyan نظم
  6. 06 عرابچی سو گیا ہے Araabchi So Gaya Hai نظم