تعارف
ضیا جالندھری اردو کے معروف شاعر، ادیب اور دانش ور تھے۔ ان کا اصل نام سید ضیا نثار احمد تھا اور وہ ۲۰ فروری ۱۹۲۳ء کو جالندھر، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید سردار احمد شاہ محکمۂ ریلوے سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے ۱۹۴۵ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ انہیں بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہری دلچسپی تھی اور تقریباً بارہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۲ء سے ان کا کلام مختلف ادبی رسائل میں شائع ہونے لگا۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کے ابتدائی وابستگان میں شامل تھے اور جدید اردو شاعری کی تشکیل و ترویج میں اپنا حصہ ڈالا۔
ضیا جالندھری نے شاعری کے ساتھ عملی اور انتظامی زندگی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد محکمۂ ڈاک میں ملازمت اختیار کی اور ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ۱۹۸۵ء میں سرکاری ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ وہ ادبی رسالے ’’علامت‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’سرِ شام‘‘، ’’نارسا‘‘، ’’دمِ صبح‘‘ اور ’’کلیاتِ ضیا‘‘ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں انسانی وجود، تنہائی، یاد، داخلی کیفیات اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کی ترجمانی ملتی ہے۔ ان کا اسلوب سادگی، فکری گہرائی اور جدید حسیت کا حسین امتزاج ہے، جس میں کلاسیکی شعری روایت کی لطافت بھی نمایاں ہے۔
اردو ادب اور نشریاتی شعبے کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ ان کی شخصیت اور فن پر علی محمد فرشی کی تصنیف ’’ضیا جالندھری: شخصیت اور فن‘‘ بھی ان کی ادبی اہمیت کا اعتراف ہے۔ وہ اپنی شاعری اور ادبی خدمات کے ذریعے جدید اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ۱۳ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو شاعری کے سنجیدہ قارئین کے لیے فکری اور جمالیاتی اہمیت رکھتی ہیں۔
ضیا جالندھری نے شاعری کے ساتھ عملی اور انتظامی زندگی میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد محکمۂ ڈاک میں ملازمت اختیار کی اور ڈپٹی پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ۱۹۸۵ء میں سرکاری ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ وہ ادبی رسالے ’’علامت‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’سرِ شام‘‘، ’’نارسا‘‘، ’’دمِ صبح‘‘ اور ’’کلیاتِ ضیا‘‘ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں انسانی وجود، تنہائی، یاد، داخلی کیفیات اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کی ترجمانی ملتی ہے۔ ان کا اسلوب سادگی، فکری گہرائی اور جدید حسیت کا حسین امتزاج ہے، جس میں کلاسیکی شعری روایت کی لطافت بھی نمایاں ہے۔
اردو ادب اور نشریاتی شعبے کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ ان کی شخصیت اور فن پر علی محمد فرشی کی تصنیف ’’ضیا جالندھری: شخصیت اور فن‘‘ بھی ان کی ادبی اہمیت کا اعتراف ہے۔ وہ اپنی شاعری اور ادبی خدمات کے ذریعے جدید اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ۱۳ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو شاعری کے سنجیدہ قارئین کے لیے فکری اور جمالیاتی اہمیت رکھتی ہیں۔
منتخب اشعار
لوح احکام ہوئی ایک ہی جھٹکے میں دو لخت
دیکھا جاتا نہ تھا پیغمبر سینا کا جلال
کسے یقیں تھا کہ پلٹے گی رات کی کایا
کٹی تو رات مگر ایک ایک پل گن گن