تعارف
عرش ملسیانی اردو کے معروف شاعر، ادیب، محقق، مترجم اور مدیر تھے۔ ان کا اصل نام پنڈت بالمکند تھا اور وہ 20 ستمبر 1908ء کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے قصبے ملسیان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جوش ملسیانی داغ دہلوی کے شاگرد اور اپنے عہد کے ممتاز شاعر تھے، چنانچہ عرش ملسیانی کو گھر ہی سے شعر و ادب کا ذوق ورثے میں ملا۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز محکمۂ آب پاشی سے کیا اور بعدازاں لدھیانہ کے گورنمنٹ انڈسٹریل اسکول میں تقریباً پندرہ برس تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت میں علمی ذوق، ادبی تربیت اور وسیع مطالعے کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
عرش ملسیانی کی ادبی زندگی کا ایک اہم حوالہ رسالہ آج کل کی ادارت ہے، جہاں انہوں نے جوش ملیح آبادی کے ساتھ بطور نائب مدیر کام کیا اور بعدازاں رسالے کی ادارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ شاعری میں ان کا رجحان کلاسیکی غزل کی روایت کی طرف تھا، جب کہ ان کے کلام میں سادگی، شستگی، برجستگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہفت رنگ اور چنگ و آہنگ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عمر خیام کی رباعیوں کا منظوم اردو ترجمہ ہست و بود کے نام سے کیا اور پوسٹ مارٹم کے ذریعے اپنی مزاح نگاری کی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
عرش ملسیانی کی ادبی خدمات کا دائرہ شاعری تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے تحقیق، تنقید، ترجمہ اور سوانح نگاری میں بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کی اہم تصانیف میں دیدارِ غالب، اقبال کی خامیاں، امیر خسرو: عہد، فن اور شخصیت اور ابوالکلام آزاد: سوانح حیات شامل ہیں۔ انہیں پنجاب کے راج کوی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت اور مختلف اصناف میں خدمات اردو ادب کا اہم سرمایہ ہیں۔ وہ 15 دسمبر 1979ء کو دہلی میں وفات پا گئے، تاہم ان کی علمی و ادبی کاوشیں آج بھی ان کی شناخت اور ادبی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
عرش ملسیانی کی ادبی زندگی کا ایک اہم حوالہ رسالہ آج کل کی ادارت ہے، جہاں انہوں نے جوش ملیح آبادی کے ساتھ بطور نائب مدیر کام کیا اور بعدازاں رسالے کی ادارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ شاعری میں ان کا رجحان کلاسیکی غزل کی روایت کی طرف تھا، جب کہ ان کے کلام میں سادگی، شستگی، برجستگی اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہفت رنگ اور چنگ و آہنگ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عمر خیام کی رباعیوں کا منظوم اردو ترجمہ ہست و بود کے نام سے کیا اور پوسٹ مارٹم کے ذریعے اپنی مزاح نگاری کی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
عرش ملسیانی کی ادبی خدمات کا دائرہ شاعری تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے تحقیق، تنقید، ترجمہ اور سوانح نگاری میں بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کی اہم تصانیف میں دیدارِ غالب، اقبال کی خامیاں، امیر خسرو: عہد، فن اور شخصیت اور ابوالکلام آزاد: سوانح حیات شامل ہیں۔ انہیں پنجاب کے راج کوی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت اور مختلف اصناف میں خدمات اردو ادب کا اہم سرمایہ ہیں۔ وہ 15 دسمبر 1979ء کو دہلی میں وفات پا گئے، تاہم ان کی علمی و ادبی کاوشیں آج بھی ان کی شناخت اور ادبی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
منتخب اشعار
اٹھا وہ خاک سرنگا پٹم سے مرد جری
بدیسیوں کی حکومت تھی لرزہ بر اندام
اسی سے تازہ ہوئی رسم نیکی و خوبی
اسی کے دم سے وطن پر تھا رحمتوں کا نزول