شاعر · 1893 – 1954 · حیدرآباد، انڈیا
صفی اورنگ آبادی
Safi Aurangabadi
40
منتخب کلام
1
محفلیں
تعارف
صفیؔ اورنگ آبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد بہاء الدین صدیقی تھا، تاہم بعد میں انہوں نے بہبود علی صدیقی نام اختیار کیا۔ وہ 14 فروری 1893ء (26 رجب 1310ھ) کو اورنگ آباد، دکن کے محلہ جونا بازار، المعروف نواب پورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم محمد منیرالدین قادری اپنے عہد کے معروف طبیب تھے۔ صفیؔ نے ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں حاصل کی اور تقریباً دس برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ حیدرآباد منتقل ہوگئے، جہاں مدرسہ نظامیہ، شبلی گنج میں تعلیم حاصل کی۔ والد کی خواہش کے برعکس ان کا رجحان طبابت کے بجائے شعر و ادب کی طرف تھا، چنانچہ انہوں نے رسمی تعلیم ادھوری چھوڑ کر عملی زندگی کا آغاز کیا۔
صفیؔ اورنگ آبادی نے کم عمری ہی سے شعر کہنا شروع کردیا تھا اور اپنے شعری ذوق کو نکھارنے کے لیے ضیا گورگانی، ظہور دہلوی، فروغ اور رضی الدین حسن کیفی جیسے اہلِ سخن سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی۔ ان کی شاعری پر دبستانِ دہلی، بالخصوص داغ دہلوی کے اسلوب کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے ایک منفرد شعری شناخت قائم کی۔ ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات سادگی، سلاست، شستگی، محاورے کی برجستگی اور جذبات کی دل نشین ترجمانی ہیں۔ ان کی غزلوں میں عشق و محبت، غمِ زندگی، تصوف، اخلاقیات اور فلسفۂ حیات کے مضامین خوب صورتی سے جلوہ گر ہیں۔ ان کا کلام حیدرآباد کے ادبی حلقوں کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوا، یہاں تک کہ ان کی شاعری گراموفون ریکارڈوں اور قوالی کی محفلوں تک پہنچی۔ ان کے شعری سرمائے میں پراگندہ، گلزارِ صفی، فردوسِ صفی اور کلیاتِ صفیؔ اورنگ آبادی قابلِ ذکر ہیں۔ وہ ایک کامیاب استادِ سخن بھی تھے اور ان کے شاگردوں کا وسیع حلقہ ان کی ادبی و تدریسی خدمات کا مظہر ہے۔
صفیؔ اورنگ آبادی کی ذاتی زندگی سادگی، قناعت، خودداری اور درویشی سے عبارت تھی۔ انہوں نے شادی نہیں کی اور زندگی کے بیشتر حصے میں معاشی مشکلات کے باوجود اپنی خودداری اور بے نیازی کو برقرار رکھا۔ ان کی شاعری میں ان کی صوفی منش طبیعت، توکل علی اللہ اور زندگی کے تلخ تجربات کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ 1954ء میں حیدرآباد دکن کے عثمانیہ دواخانہ میں وفات پاگئے اور درگاہ حضرت سردار بیگ میں سپردِ خاک ہوئے۔ صفیؔ اورنگ آبادی نے اپنی سادہ، دل نشیں اور فکری گہرائی سے بھرپور شاعری کے ذریعے دکن کی کلاسیکی غزل کو ایک نئی توانائی عطا کی۔ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی فنی مہارت، زبان و بیان کی پختگی اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعے اردو ادب میں ایک مستقل اور قابلِ قدر مقام حاصل کیا۔
صفیؔ اورنگ آبادی نے کم عمری ہی سے شعر کہنا شروع کردیا تھا اور اپنے شعری ذوق کو نکھارنے کے لیے ضیا گورگانی، ظہور دہلوی، فروغ اور رضی الدین حسن کیفی جیسے اہلِ سخن سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی۔ ان کی شاعری پر دبستانِ دہلی، بالخصوص داغ دہلوی کے اسلوب کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے ایک منفرد شعری شناخت قائم کی۔ ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات سادگی، سلاست، شستگی، محاورے کی برجستگی اور جذبات کی دل نشین ترجمانی ہیں۔ ان کی غزلوں میں عشق و محبت، غمِ زندگی، تصوف، اخلاقیات اور فلسفۂ حیات کے مضامین خوب صورتی سے جلوہ گر ہیں۔ ان کا کلام حیدرآباد کے ادبی حلقوں کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوا، یہاں تک کہ ان کی شاعری گراموفون ریکارڈوں اور قوالی کی محفلوں تک پہنچی۔ ان کے شعری سرمائے میں پراگندہ، گلزارِ صفی، فردوسِ صفی اور کلیاتِ صفیؔ اورنگ آبادی قابلِ ذکر ہیں۔ وہ ایک کامیاب استادِ سخن بھی تھے اور ان کے شاگردوں کا وسیع حلقہ ان کی ادبی و تدریسی خدمات کا مظہر ہے۔
صفیؔ اورنگ آبادی کی ذاتی زندگی سادگی، قناعت، خودداری اور درویشی سے عبارت تھی۔ انہوں نے شادی نہیں کی اور زندگی کے بیشتر حصے میں معاشی مشکلات کے باوجود اپنی خودداری اور بے نیازی کو برقرار رکھا۔ ان کی شاعری میں ان کی صوفی منش طبیعت، توکل علی اللہ اور زندگی کے تلخ تجربات کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ 1954ء میں حیدرآباد دکن کے عثمانیہ دواخانہ میں وفات پاگئے اور درگاہ حضرت سردار بیگ میں سپردِ خاک ہوئے۔ صفیؔ اورنگ آبادی نے اپنی سادہ، دل نشیں اور فکری گہرائی سے بھرپور شاعری کے ذریعے دکن کی کلاسیکی غزل کو ایک نئی توانائی عطا کی۔ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی فنی مہارت، زبان و بیان کی پختگی اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعے اردو ادب میں ایک مستقل اور قابلِ قدر مقام حاصل کیا۔
منتخب اشعار
خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا
آشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کا
وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا
کسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہوا
کلام
- 01 خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا Khoob haathon haath badla mil gaya bedaad ka غزل
- 02 وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہوا Woh waaqiaat kise yaad ek zamaana hua غزل
- 03 کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیا Kuch na paai dil ne taskeen aur kuch paai to kya غزل
- 04 دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا Daam-e khayal zulf-e butaan se chhura liya غزل
- 05 ہائے اس بے خود شباب کا رنگ Haye us be khud shabaab ka rang غزل
- 06 کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میں Kya ho taskeen jo ho teri sukoonat dil mein غزل