اب نیا عشق ہے اس کا مری تنہائی سے
یعنی میں ہار گیا اپنی ہی تنہائی سے
عین اسی لمحے میں دستک ہوئی دروازے پر
بندھ گئی تھی ذرا امید سی تنہائی سے
کچھ نئے پھول ہی بازار میں آئے ہوتے
میں بھی گلدان سجاتا نئی تنہائی سے
میں نے سوچا کہ خدا کتنا اکیلا ہوگا
اپنی تنہائی مٹائی بڑی تنہائی سے
گڑھتا رہتا ہوں یوں ہی وقت گزاری کے لئے
رنگ سناٹے سے اور روشنی تنہائی سے
آخری بار وہ آیا تھا عیادت کو مگر
خوب جھگڑے کئے دم توڑتی تنہائی سے
نعمان شوق
Ab naya ishq hai us ka meri tanhaai se
Ya'ni main haar gaya apni hi tanhaai se
Ain isi lamhe mein dastak hui darwaaze par
Bandh gai thi zara ummeed si tanhaai se
Kuchh naye phool hi bazaar mein aaye hote
Main bhi guldaan sajaata nai tanhaai se
Main ne socha ki Khuda kitna akela hoga
Apni tanhaai miTaai baDi tanhaai se
GaDh'ta rehta hoon yoon hi waqt guzaari ke liye
Rang sannate se aur roshni tanhaai se
Aakhiri baar woh aaya tha iyaadat ko magar
Khoob jhagaDe kiye dam toDti tanhaai se
نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے با...
مکمل تعارف پڑھیں