اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سے
کوئی پکارنے والا نہیں نگاہوں سے
خدا گناہ کی لذت کو برقرار رکھے
نہ دیکھ ایسے مجھے خشمگیں نگاہوں سے
غزل کے حسن کو درکار ناظرین نہیں
زیادہ کام نہ لیں سامعیں نگاہوں سے
تمام پھول مجھے رنگ سے لبھاتے تھے
تمام روشنیاں یاد تھیں نگاہوں سے
شروع عشق میں کم پڑ گئے تھے جب الفاظ
کئی زبانیں تراشی گئیں نگاہوں سے
میں آسمان پہ تھا تم کو یاد تو ہوگا
مجھے اتارا گیا بعد ازیں نگاہوں سے
مرے وہ شعر بھی آئے پسند اس کو واہ
چھپا رکھا تھا جنہیں نکتہ بیں نگاہوں سے
نعمان شوق
Ik aan mein hui ojhal zameen nigahon se
Koi pukarne wala nahin nigahon se
Khuda gunah ki lazzat ko barqarar rakhe
Na dekh aise mujhe khashmgeen nigahon se
Ghazal ke husn ko darkaar nazreen nahin
Zyada kaam na lein sam'een nigahon se
Tamam phool mujhe rang se lubhate the
Tamam roshniyan yaad thiin nigahon se
Shuroo-e-ishq mein kam pad gaye the jab alfaaz
Kai zubanein tarashi gayin nigahon se
Main aasmaan pe tha tum ko yaad to hoga
Mujhe utara gaya baad azeen nigahon se
Mere woh sher bhi aaye pasand us ko wah
Chhupa rakha tha jinhein nukta-been nigahon se
نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے با...
مکمل تعارف پڑھیں