کچھ کو دکان کچھ کو خریدار کر چکے
کرنے کے جتنے کام تھے بازار کر چکے
جن کو رہائی ملنی نہ تھی ان کو مل گئی
جس جس کو چاہتے تھے گرفتار کر چکے
ملتا نہیں جہاں میں کوئی کام ڈھنگ کا
اک عشق تھا سو وو بھی کئی بار کر چکے
اتنے تو ہم کبھی بھی نہ تھے سادگی پسند
کچھ پھول اپنے رنگ سے بیزار کر چکے
اب کس خدا کو لاؤں گواہی کے واسطے
سب فیصلے تو پہلے ہی سرکار کر چکے
نعمان شوق
Kuchh ko dukan kuchh ko khareedar kar chuke
Karne ke jitne kaam the bazaar kar chuke
Jin ko rihaai milni na thi un ko mil gai
Jis jis ko chahte the giraftar kar chuke
Milta nahin jahan mein koi kaam Dhang ka
Ek ishq tha so woh woh bhi kai baar kar chuke
Itne to hum kabhi bhi na the saadgi pasand
Kuchh phool apne rang se bezaar kar chuke
Ab kis Khuda ko laaun gawahi ke waaste
Sab faisle to pehle hi sarkaar kar chuke
نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے با...
مکمل تعارف پڑھیں