مصدر عشق کی گردان مکمل کر کے
جا رہے ہیں تری پہچان مکمل کر کے
کم سے کم ایک خدا اور مجھے چاہیے تھا
میں ادھورا رہا ایمان مکمل کر کے
عمر بھر جاگنے والوں کو بھی ہاتھ آیا کیا
سو گئے خواب کا نقصان مکمل کر کے
نعمان شوق
Masdar-e-ishq ki gardaan mukammal kar ke
Ja rahe hain teri pehchan mukammal kar ke
Kam se kam ek Khuda aur mujhe chahiye tha
Main adhoora raha imaan mukammal kar ke
Umar bhar jaagne walon ko bhi haath aaya kya
So gaye khwab ka nuqsan mukammal kar ke
نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے با...
مکمل تعارف پڑھیں