ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
15 نومبر 2025
انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاو۔ (میر انیس)
مہمان شاعر: میر انیس
13
سپیکرز
سپیکرز
میر انیس — مہمان شاعر
میر ببر علی انیس (1802ء–1874ء) اردو مرثیے کے عظیم ترین شاعر، دبستانِ لکھنؤ کے درخشاں ستارے اور اردو ایپک شاعری کی بلند ترین آواز تھے۔ آپ کا تعلق فیض آباد کے ایک ادبی و فنکارانہ گھرانے سے تھا، جہاں شعری روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی؛ آپ کے والد میر خلیق بلند پایہ شاعر تھے جبکہ دادا میر حسن مسدسِ حال و قال کے خالق اور اردو کلاسیکی ادب کے معتبر ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔ گھر کے اس علمی و تخلیقی ماحول میں انیس کو بچپن ہی سے عربی، فارسی، منطق، بلاغت اور فنِ خطابت کی باقاعدہ تربیت ملی، ابتدائی زندگی فیض آباد میں گزری مگر عملی و ادبی میدان لکھنؤ بنا جہاں وہ آخری وقت تک مقیم رہے۔ شادی انہوں نے ایک ممتاز ادبی گھرانے میں کی، اور اگرچہ ازدواجی زندگی باوقار اور خاموش طبیعت کی حامل تھی ۔ اگرچہ انیس نے جوانی میں غزل، رباعی اور نعت و منقبت بھی لکھی اور ان کی غزلوں میں لکھنؤ کی کلاسیکی لطافت اور سوز نمایاں تھا، مگر انہوں نے غزل ترک کر کے عمر بھر مرثیہ نگاری کو اپنا میدان اس بنیاد پر بنایا کہ...