مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا
مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا
دل لگانا تجھے آتا ہے لگائے چلا جا
میرے قدموں سے تو دو چار قدم پیچھے چل
میرے گرتے ہوئے لمحوں کو اٹھائے چلا جا
نا میسر کا بھی ہو نام میسر کا بھی
میں بلائے چلا جاتا ہوں تو آئے چلا جا
ہم کہ جلنے پہ بھی تیار ہیں ڈھلنے پر بھی
کام جیسے ترا چلتا ہے چلائے چلا جا
اے مرے غائب و غرقاب یہ حق تیرا ہے
جتنی اٹھ سکتی ہے یہ لہر اٹھائے چلا جا
اب ترے دیکھنے والوں میں کوئی ہے کہ نہیں
میں نہ کہتا تھا مری خاک اڑائے چلا جا
سب تماشہ مرے ذمے ہے مرے جسم نژاد
تو نے بس وقت بتانا ہے بتائے چلا جا
یہ تری دھن میں جو گزرے تو گزرنا آ جائے
اس زمیں زاد کو اتنا تو سدھائے چلا جا
شاہین عباس