میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا
میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا
دیکھتے دیکھتے دل ہو گیا ویران مرا
مجھے کھو کر تری آنکھیں نہیں پہلے جیسی
تیرے نقصان سے بڑھ کر ہے یہ نقصان مرا
یہ سمندر کہ جو اب ملنے ملانے سے گیا
گئے وقتوں میں ہوا کرتا تھا مہمان مرا
ایک دنیا میں سمٹ آئے یہ ممکن ہی نہیں
اتنی دنیاؤں میں بکھرا ہوا سامان مرا
میں نے اس طرح بھی اس شخص کا رکھا ہے خیال
کہیں جاتا ہی نہیں اپنے سوا دھیان مرا
مجھے آغاز میں کچھ ایسے اشارے ملے تھے
میں نہ ہوتا تو کہاں جاتا بیابان مرا
میں نے دو ہاتھوں کا سایہ سا بنایا جن پر
ان درختوں نے اٹھایا نہیں احسان مرا
میری چپ شور بنی شور سے کچھ اور بنی
ایک اک کر کے ہوا ختم ہر امکان مرا
اس محبت پہ میں اتنا ہی کہوں گا شاہینؔ
اک ستارے نے سفر کر دیا آسان مرا
شاہین عباس