کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں
یہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں
کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیر پا سے
کئی عالم مری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں
تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں سانس لے لیں
ہم اس تصویر میں تصویر سے تنگ آ گئے ہیں
انہیں فرشوں پہ تکیہ تھا مگر یہ فرش بھی تو
ہمارے نالۂ شبگیر سے تنگ آ گئے ہیں
مچانوں میں سے آنسو گر رہے ہیں خاک اوپر
شکاری ہیں کہ جو تقدیر سے تنگ آ گئے ہیں
عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر
گلی کوچے اب اس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں
وضاحت کرتے کرتے زندگی پر مرتے مرتے
مسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں
شاہین عباس