دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم
دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم
دل ہی دل میں سہی کچھ خاک اڑانے لگے ہم
پہر دو پہر کو وہ عشق تھا اک عمر کا عشق
آئنہ دیکھا تو کچھ اتنے پرانے لگے ہم
کہیں زنجیر کا یہ حلقہ اضافی ہی نہ ہو
دیکھ اس خواب سے آگے نظر آنے لگے ہم
مسئلہ باغ محبت کا وہ پہلا سا نہیں
گل کھلانے کی جو تھی شرط اٹھانے لگے ہم
بہتے بہتے انہیں آنکھوں میں کہیں ڈوب گئے
چلئے اچھا ہے کسی طور ٹھکانے لگے ہم
بات تصویر نے کہہ دی کہ جو مطلب کی نہ تھی
یک بہ یک منظر جاں چھوڑ کے جانے لگے ہم
شاہین عباس