روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی
روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی
خاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی
رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرح
ایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی
تو نے چپ سادھ لی موضوع محبت دے کر
گفتگو تجھ سے جو ہونی تھی زمانے سے ہوئی
تھا مگر ایسا اکیلا میں کہاں تھا پہلے
میری تنہائی مکمل ترے آنے سے ہوئی
اپنے بارے میں وہ اک بات جو ہوتی نہیں تھی
تیری آواز میں آواز ملانے سے ہوئی
شاہین عباس