مقرر

حسن سید

@Hasan_Syed_R

5
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
حسن سید کی آواز میں

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کلام: مومن خان مومن · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30

«وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے حسن سید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 بے خودی بے حساب کی میں نے Be-khudi be-hisab ki main ne زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 او مرے دل کے چین​ O mere dil ke chain مجروح سلطانپوری آواز میں دستیاب
  3. 03 دل بے مدعا ہے اور میں ہوں Dil be-muddaa hai aur mein hoon حفیظ جالندھری آواز میں دستیاب
  4. 05 تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں Tum poochho aur main na bataun aise to halaat nahin قتیل شفائی آواز میں دستیاب