مقرر

حسن سید

@Hasan_Syed_R

5
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
حسن سید کی آواز میں

دل بے مدعا ہے اور میں ہوں

کلام: حفیظ جالندھری · محفل: ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری) · 2025-12-16

«دل بے مدعا ہے اور میں ہوں» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے حسن سید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں

نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقیمرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 بے خودی بے حساب کی میں نے Be-khudi be-hisab ki main ne زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 او مرے دل کے چین​ O mere dil ke chain مجروح سلطانپوری آواز میں دستیاب
  3. 04 وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو Woh jo hum mei'n tum mei'n qarar tha, tumhe'n yaad ho ke na yaad ho مومن خان مومن آواز میں دستیاب
  4. 05 تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں Tum poochho aur main na bataun aise to halaat nahin قتیل شفائی آواز میں دستیاب