حسن سید کی آواز میں
دل بے مدعا ہے اور میں ہوں
کلام: حفیظ جالندھری · محفل: ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری) · 2025-12-16
«دل بے مدعا ہے اور میں ہوں» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے حسن سید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
دل بے مدعا ہے اور میں ہوںمگر لب پر دعا ہے اور میں ہوں
نہ ساقی ہے نہ اب وہ شے ہے باقیمرا دور آ گیا ہے اور میں ہوں