مقرر

زبیر قلزم

@ZQulzam21215

12
پیش کردہ کلام
1
محفلوں میں شرکت
زبیر قلزم کی آواز میں

اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں

کلام: زبیر قلزم · محفل: زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام · 2026-05-11

«اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیںآدمی آدمی رہا ہی نہیں

آ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو جاتیرے اب ہجر میں مزہ ہی نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر Janab kab kaheen pattharon ka naam tha patthar زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 03 جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا Jism mai-khane me pada hai mera زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 04 بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال Bataayen husn us ka kya jamal hi jamal زبیر قلزم
  4. 05 دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ Dil se hi jab utar gaya hai woh زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  5. 06 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  6. 07 چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں Chehra fitna o wabaal aankhein hain زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  7. 08 خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو Khwab kaise dikha gaya mujh ko زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  8. 09 خود سے ہی مذاق کر گیا میں Khud se hi mazaq kar gaya main زبیر قلزم آواز میں دستیاب