9 اشعار

اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں

Is liye zikr-e-gham kiya hi nahin

اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں

«اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیںآدمی آدمی رہا ہی نہیں

آ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو جاتیرے اب ہجر میں مزہ ہی نہیں

ہجر ہو، مفلسی ہو ، کہ ہو دغاکوئی غم خیر سے بچا ہی نہیں

دشمن جان پیار سے جاں مانگایسے تو میں کبھی دبا ہی نہیں

آگ ایسی لگائی مرنے تکدل یہ جلتا رہا بجھا ہی نہیں

آس کیا رکھتا اچھے وقت کی میںکہ برا وقت تو ٹلا ہی نہیں

جھریاں یا سفید بال دکھےآئینے میں میں تو دکھا ہی نہیں

ایک اک کونہ گھر کا دیکھ لیاپر میں خود کو کہیں ملا ہی نہیں

وہ تھا ماہر بچھڑنے میں قلزمبے وفا وہ مجھے لگا ہی نہیں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں