دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہغزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ
ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہپہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہغزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ
ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہپہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھینہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھاتو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیںہائے کتنی کمال آنکھیں ہیں
نہ ستارے کہو نہ موتی کہووہ میاں بے مثال آنکھیں ہیں
خواب کیسے دکھا گیا مجھ کونیند سے ہی ڈرا گیا مجھ کو
ساتھ راتیں گزارنے والادن میں تارے دکھا گیا مجھ کو
خود سے ہی مذاق کر گیا میںکل رات کو اپنے گھر گیا میں
کس زندگی کا حساب دوں گاجس زندگی سے مکر گیا میں
اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہےیہ لگا ہی نہیں دھوکہ کھاتے رہے
یہ بھی سچ ہے کسی سے محبت نہ تھییہ بھی سچ ہے سبھی سے نبھاتے رہے
ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیںرنگ وہ اس طرح بدلتے ہیں
آگئے بھول کر فرشتوں میںمعذرت ہم جناب چلتے ہیں
جب جنوں سارے اتر جائیں گےبخت مارے یہ کدھر جائیں گے
آس کا آپ نہ دامن چھوڑیںایک دن ہم بھی سدھر جائیں گے
جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھریہ میرا ضبط بنا تب کہا گیا پتھر
یہ کھیل سارا عقیدت کا ہے مرے یاروکہیں ہے بندہ خدا تو کہیں خدا پتھر
اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیںآدمی آدمی رہا ہی نہیں
آ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو جاتیرے اب ہجر میں مزہ ہی نہیں
جسم مے خانے میں پڑا ہے مرادل نجانے کہاں گرا ہے مرا
میں تمہیں بد دعائیں دیتا ہوںجب کوئی حال پوچھتا ہے مرا
بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمالحسین ہے بلا کا وہ کمال ہی کمال ہے
غزال بھی کریں ہیں باتیں آپ کی جناب کیچلیں تو چال ایسی ہے دھمال ہی دھمال ہے