مقرر

زاہدحسین

@zahidhussa69226

49
پیش کردہ کلام
36
محفلوں میں شرکت
زاہدحسین کی آواز میں

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

کلام: مجروح سلطانپوری · محفل: میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری · 2026-01-31

«تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیں

یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب مے کش ہم سب ساقیتفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں Main bichhad kar tujh se teri rooh ke paikar mein hoon آزاد گلاٹی آواز میں دستیاب
  2. 02 کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے Kabhi kabhi main yeh sochta hoon ke mujh ko teri talash kyun hai جاوید اختر آواز میں دستیاب
  3. 03 نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا Na tumhara husn jawan raha na hamara ishq jawan raha اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  4. 04 دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا Dil-e-mahjoor ko taskeen ka samaan nah mila اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  5. 05 بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں Beete hue din khud ko jab dohrate hain وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  6. 07 ‏ظاہر عبادت وکھری ہوندی عشق مصلے وکھرے نے۔ Zahir ibadat wakhri hondi ishq musalle wakhre ne. پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  7. 08 ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا Hanso to saath hansegi duniya baith akele rona hoga میراجی آواز میں دستیاب
  8. 09 لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں Lazzat-e-sham, shab-e-hijr khuda daad nahiñ میراجی آواز میں دستیاب