میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں
کلام: آزاد گلاٹی
میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوںتو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں
اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میںکتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوںتو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں
اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میںکتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں