6 اشعار

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

Taqdeer ka shikwa be-ma'ani jeena hi tujhe manzoor nahin

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں

«تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیںآپ اپنا مقدر بن نہ سکے اتنا تو کوئی مجبور نہیں

یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب مے کش ہم سب ساقیتفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں

جنت بہ نگہ تسنیم بہ لب انداز اس کے اے شیخ نہ پوچھمیں جس سے محبت کرتا ہوں انساں ہے خیالی حور نہیں

وہ کون سی صبحیں ہیں جن میں بیدار نہیں افسوں تیراوہ کون سی کالی راتیں ہیں جو میرے نشے میں چور نہیں

سنتے ہیں کہ کانٹے سے گل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانےکہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں

مجروحؔ اٹھی ہے موج صبا آثار لیے طوفانوں کےہر قطرۂ شبنم بن جائے اک جوئے رواں کچھ دور نہیں

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں