آنکھوں کے آسماں سے اتر کر زمیں پہ تھے
کل شب ستارے سارے ہماری جبیں پہ تھے
تم سے تمام عمر کی دوری کے اس طرف
چپکے کھڑے ہوئے تھے پہ ہم بھی وہیں پہ تھے
قریہ بہ قریہ ہم کو تری بو لیے پھری
تھے صبح کو کہیں پہ تو شب کو کہیں پہ تھے
جو تھا یہاں وہ خواب کے دریا کے پار تھا
اور ہم سوار کشتیٔ قلب حزیں پہ تھے
امیر امام
Aankhon ke aasman se utar kar zameen pe the
Kal shab sitaare saare hamari jabeen pe the
Tum se tamam umr ki doori ke is taraf
Chupke khaṛe hue the pe hum bhi wahin pe the
Qarya ba qarya hum ko teri bu liye phiri
The subah ko kahin pe to shab ko kahin pe the
Jo tha yahan woh khwab ke darya ke paar tha
Aur hum sawar kashti-e-qalb-e-hazin pe the
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں