بدلتے وقت سے بدلا نہیں نظارۂ عشق
وہ آسمان خموشی وہی ستارۂ عشق
ہم اہل عشق کو آتا ہے حکم عشق سدا
کتاب عشق سے کرتے ہیں استخارۂ عشق
ہماری زیست ہی کیا برگ ہائے خشک کا ڈھیر
اور اس کی سمت روانہ کوئی شرارۂ عشق
ہم اس خیال سے اس چشم نم میں اترے تھے
ہے نہر عشق تو ہو گا کہیں کنارۂ عشق
امیر امام
Badalte waqt se badla nahin nazara-e-ishq
Woh aasman-e-khamoshi wohi sitara-e-ishq
Hum ahl-e-ishq ko aata hai hukm-e-ishq sada
Kitab-e-ishq se karte hain istikhara-e-ishq
Hamari zeest hi kya barg-haye khushk ka dheir
Aur is ki simt rawana koi sharara-e-ishq
Hum is khayal se is chashm-e-nam mein utre the
Hai nahar-e-ishq to hoga kahin kinara-e-ishq
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں