بہتے دریاؤں تک آئیں گے اٹھا لیں گے تمہیں
میرے ہونٹھوں سے خبردار چرا لیں گے تمہیں
جمع ہو جائے ذرا اور خموشی دل میں
ہم اسی دل کی خموشی سے بنا لیں گے تمہیں
دعوے داروں کی یہاں بھیڑ لگی ہے لیکن
مسند دل پہ بہر حال بٹھا لیں گے تمہیں
قطرۂ خوں ہو تو خنجر پہ رکھیں گے تم کو
اور آنسو ہو تو پلکوں پہ سجا لیں گے تمہیں
وقت کے ہاتھوں سے بچتا ہے یہاں کون مگر
سخت حیرت ہے کہ اک روز یہ آ لیں گے تمہیں
ابھی کچھ اور زمانے پہ عیاں ہو جائیں
دیکھنا سارے زمانے سے چھپا لیں گے تمہیں
تم بھی اک روز کسی اور میں پا لو گے ہمیں
ہم بھی اک روز کسی اور میں پا لیں گے تمہیں
امیر امام
Bahte dariyaon tak aayenge utha lenge tumhein
Mere honton se khabardaar chura lenge tumhein
Jama ho jaye zara aur khamoshi dil mein
Hum isi dil ki khamoshi se bana lenge tumhein
Da'vedaron ki yahan bheed lagi hai lekin
Masnad-e-dil pe baharhaal bitha lenge tumhein
Qatra-e-khoon ho to khanjar pe rakhein ge tum ko
Aur aansoo ho to palkon pe saja lenge tumhein
Waqt ke haathon se bachta hai yahan kaun magar
Sakht hairat hai ke ek roz yeh aa lenge tumhein
Abhi kuch aur zamane pe ayyan ho jayen
Dekhna saare zamane se chhupa lenge tumhein
Tum bhi ek roz kisi aur mein pa loge hamein
Hum bhi ek roz kisi aur mein pa lenge tumhein
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں