چھپ جاتا ہے پھر سورج جس وقت نکلتا ہے
کوئی ان آنکھوں میں ساری رات ٹہلتا ہے
چمپئی صبحیں پیلی دوپہریں سرمئی شامیں
دن ڈھلنے سے پہلے کتنے رنگ بدلتا ہے
دن میں دھوپیں بن کر جانے کون سلگتا تھا
رات میں شبنم بن کر جانے کون پگھلتا ہے
خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں
کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے
رات اگلتا رہتا ہے وہ ایک بڑا سایہ
چھوٹے چھوٹے سائے جو ہر شام نگلتا ہے
امیر امام
Chhup jaata hai phir suraj jis waqt nikalta hai
Koi un aankhon mein saari raat tahalta hai
Champei subhein peeli dopahrein surmai shaamein
Din dhalne se pehle kitne rang badalta hai
Din mein dhoopein ban kar jaane kaun sulagta tha
Raat mein shabnam ban kar jaane kaun pighalta hai
Khamoshi ke naakhun se chhil jaaya karte hain
Koi phir un zakhmon par awaazein milta hai
Raat ugalta rehta hai woh ek bada saaya
Chhote chhote saaye jo har shaam nigalta hai
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں