امیر امام — شاعر کی تصویر

دھار کیسی ہے یہ تلوار سے کٹ کر دیکھا — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

دھار کیسی ہے یہ تلوار سے کٹ کر دیکھا

دھار کیسی ہے یہ تلوار سے کٹ کر دیکھا
مرحبا چشم کہ اس خواب کو ڈٹ کر دیکھا
میں نہ کہتا تھا کہ رہ جائے گی مبہم ہو کر
خامشی نے جو صداؤں سے لپٹ کر دیکھا
یوں لگا جیسے کہ پھر میں نے صدا دی تم کو
یوں لگا جیسے کہ پھر تم نے پلٹ کر دیکھا
ہوا معلوم وہاں ختم زمیں ہوتی تھی
تیرے در سے جو ذرا پیچھے کو ہٹ کر دیکھا
اپنی وسعت کا اسے علم ہوا یوں یارو
اس نے اک شب مری بانہوں میں سمٹ کر دیکھا
فرق آیا نہ کوئی بات عجب ہے لوگو
میں نے دنیا کو کئی بار الٹ کر دیکھا
وہ نہیں آیا مگر اس کو بلانے کے لئے
بجھ کے آنکھوں نے تو نیندوں نے اچٹ کر دیکھا

Dhaar kaisi hai yeh talwar se kaṭ kar dekha

Dhaar kaisi hai yeh talwar se kaṭ kar dekha
Marhaba chashm ki is khwab ko ḍaṭ kar dekha
Main na kehta tha ki rah jaayegi mubham ho kar
Khamoshi ne jo sadaon se lipaṭ kar dekha
Yun laga jaise ki phir main ne sada di tum ko
Yun laga jaise ki phir tum ne palaṭ kar dekha
Hua maloom wahan khatm zameen hoti thi
Tere dar se jo zara pīchhe ko haṭ kar dekha
Apni wus'at ka use ilm hua yun yaaro
Us ne ek shab meri baanhon mein simaṭ kar dekha
Farq aaya na koi baat ajab hai logo
Main ne duniya ko kai baar ulaṭ kar dekha
Woh nahin aaya magar us ko bulane ke liye
Bujh ke aankhon ne to neendon ne uchaṭ kar dekha

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام