گلیوں میں آہٹوں کے مچلنے کا وقت تھا
اک اور شام رات میں ڈھلنے کا وقت تھا
اس وقت پھر ہمارے قدم لڑکھڑا گئے
جو وقت لڑکھڑا کے سنبھلنے کا وقت تھا
آنکھوں سے خواب رات سے تارے ہوا سے تم
اک دوسرے سے سب کے نکلنے کا وقت تھا
اک رات درمیان رکھی تھی جمی ہوئی
پگھلی نہیں گو اس کے پگھلنے کا وقت تھا
لوگ ایک دوسرے سے بچھڑتے چلے گئے
وہ راستوں کے راہ بدلنے کا وقت تھا
یہ تو تمہارے کھیلنے کھانے کے روز تھے
یہ تو تمہارے پھولنے پھلنے کا وقت تھا
امیر امام
Galiyon mein aahaṭon ke machalne ka waqt tha
Ik aur shaam raat mein dhalne ka waqt tha
Is waqt phir hamare qadam laṛkhaṛa gaye
Jo waqt laṛkhaṛa ke sambhalne ka waqt tha
Aankhon se khwab raat se taare hawa se tum
Ik doosre se sab ke nikalne ka waqt tha
Ik raat darmiyan rakhi thi jami hui
Pighli nahin go us ke pighalne ka waqt tha
Log ek doosre se bichhaṛte chale gaye
Woh raaston ke raah badalne ka waqt tha
Ye to tumhare khelne khane ke roz the
Ye to tumhare phoolne phalane ka waqt tha
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں