میں اس دنیا کے میلے میں
کھلونوں کہ دکانوں پر سجے ایک اک کھلونے کو بڑی حسرت سے تکتا جا رہا ہوں
اس اک بچے کی صورت جس کو یہ معلوم تک ہوتا نہیں وہ کھو گیا ہے
وہ جن کے ساتھ آیا تھا وہ اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں
لیکن وہ تو اس میلے میں چلتا جا رہا ہے
بنا سوچے کہ اس کے چلتے جانے کا بھلا انجام کیا ہوگا
بنا جانے کہ جب ڈھل جائے گا دن اور ہوگی شام
کیا ہوگا
امیر امام
Main is duniya ke mele mein
Khilaunon ke dukaanon par saje ek ek khilaune ko badi hasrat se takta ja raha hoon
Us ek bacche ki soorat jis ko ye maloom tak hota nahin woh kho gaya hai
Woh jin ke saath aaya tha woh us ko dhoondte phirte hain
Lekin woh to us mele mein chalta ja raha hai
Bina soche ke us ke chalte jaane ka bhala anjaam kya hoga
Bina jaane ke jab dhal jaayega din aur hogi shaam
Kya hoga
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں