ہوائے دیر و حرم سے بچانا پڑتا ہے
خدا کو سینے کے اندر چھپانا پڑتا ہے
قدم قدم پہ لپٹتی ہے خاک قدموں سے
اور آسمان کو سر پر اٹھانا پڑتا ہے
شب سیاہ کا محرم نہیں ہوا اب تک
بہ وقت شام یہ سورج بجھانا پڑتا ہے
فرشتہ ہونے سے مشکل ہے آدمی ہونا
کہ آدمی کو زمینوں پہ آنا پڑتا ہے
ادھر چلے ہو تو پتھر بھی ہاتھ میں لے لو
کہ راستے میں اک آئینہ خانہ پڑتا ہے
بتائیں آپ ہی جنت میں کس طرح جائیں
ہمیں تو دانۂ گندم بھی کھانا پڑتا ہے
امیر امام
Hawa-e-dair-o-haram se bachana padta hai
Khuda ko seene ke andar chhupana padta hai
Qadam qadam pe lipatti hai khaak qadmon se
Aur aasmaan ko sar par uthana padta hai
Shab-e-siyah ka mehram nahin hua ab tak
Ba-waqt-e-shaam ye sooraj bujhana padta hai
Farishta hone se mushkil hai aadmi hona
Ke aadmi ko zameenon pe aana padta hai
Idhar chale ho to patthar bhi haath mein le lo
Ke raaste mein ek aaina-khana padta hai
Bataein aap hi jannat mein kis tarah jaayen
Hamein to dana-e-gandum bhi khana padta hai
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں