امیر امام — شاعر کی تصویر

کیسی جادو بیانیاں ہم تھے — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

کیسی جادو بیانیاں ہم تھے

کیسی جادو بیانیاں ہم تھے
جب تمہاری کہانیاں ہم تھے
ہمیں ڈھونڈو نہ رائیگانی میں
رائیگاں رائیگانیاں ہم تھے
جن کو ہونا تھا بے نشاں اک دن
چند ایسی نشانیاں ہم تھے
ندیاں تھیں کسی کے ہونٹھوں میں
ندیوں کی روانیاں ہم تھے
اک بگولے نے یہ کہا مجھ سے
تیری راتوں کی رانیاں ہم تھے
تیرے ہونٹھوں میں تیرے عارض میں
ہر طرف گلفشانیاں ہم تھے
یوںہی ہونے کو ہو گئے واقع
ناگہاں ناگہانیاں ہم تھے
اب بھی تشنہ دہانیاں ہم ہیں
جب بھی تشنہ دہانیاں ہم تھے

Kaisi jadoo bayaniyan hum the

Kaisi jadoo bayaniyan hum the
Jab tumhari kahaniyan hum the
Hamein ḍhoonḍho na raaigani mein
Raaigaan raaiganiyan hum the
Jin ko hona tha be-nishan ek din
Chand aisi nishaniyan hum the
Nadiyan thin kisi ke honṭhon mein
Nadiyon ki rawaniyan hum the
Ek bagole ne yeh kaha mujh se
Teri raaton ki raniyan hum the
Tere honṭhon mein tere aariz mein
Har taraf gul-fishaniyan hum the
Yunhi hone ko ho gaye waqia
Nagahan nagahaniyan hum the
Ab bhi tishna-dahaniyan hum hi hain
Jab bhi tishna-dahaniyan hum the

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام