امیر امام — شاعر کی تصویر

کل رات جو شل رہی ہیں آنکھیں — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

کل رات جو شل رہی ہیں آنکھیں

کل رات جو شل رہی ہیں آنکھیں
یوں صبح سے جل رہی ہیں آنکھیں
منظر سے نکل رہے ہیں منظر
آنکھوں سے نکل رہی ہیں آنکھیں
اشکوں کا لہو کہاں سے لاؤں
پیاسی ہیں مچل رہی ہیں آنکھیں
خوابوں سے لڑائی ہو گئی ہے
خاموش ٹہل رہی ہیں آنکھیں
بدلیں نہ ذرا بھی خود وہ لیکن
چہرہ کو بدل رہی ہیں آنکھیں
جب ہوں گی طلوع دیکھ لیں گے
فی الحال تو ڈھل رہی ہیں آنکھیں

Kal raat jo shul rahi hain aankhen

Kal raat jo shul rahi hain aankhen
Yun subah se jal rahi hain aankhen
Manzar se nikal rahe hain manzar
Aankhon se nikal rahi hain aankhen
Ashkon ka lahu kahaan se laaun
Pyasi hain machal rahi hain aankhen
Khwaabon se ladaai ho gayi hai
Khamosh tehal rahi hain aankhen
Badlein na zara bhi khud wo lekin
Chehra ko badal rahi hain aankhen
Jab hongi tulu' dekh lenge
Filhaal to dhal rahi hain aankhen

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام