خوشبوئے رائیگانی اعصاب مضمحل سے
ہم بھی خجل خجل سے تم بھی خجل خجل سے
آواز دے رہی ہیں نادیدہ کہکشائیں
لیکن مفر کہاں اس زندان آب و گل سے
آنکھوں سے تیری ہم نے لطف دوئی کو جانا
توحید ہم نے سمجھی تیرے لبوں کے تل سے
کیوں نام تو نے اپنا خاموشی رکھ لیا ہے
جی چاہتا ہے پوچھیں اس شور مستقل سے
دیکھا تمام بستی ویران ہو چکی تھی
اترے زمین دل پر جب آسمان دل سے
امیر امام
Khushboo-e-raigani a'asab muzmahil se
Hum bhi khajil khajil se tum bhi khajil khajil se
Aawaz de rahi hain nadida kahkashayen
Lekin mafar kahan is zindaan-e-ab-o-gil se
Aankhon se teri hum ne lutf-e-doi ko jaana
Tauheed hum ne samjhi tere labon ke til se
Kyun naam tu ne apna khamoshi rakh liya hai
Jee chahta hai poochhen is shor-e-mustaqil se
Dekha tamam basti veeran ho chuki thi
Utre zameen-e-dil par jab aasman-e-dil se
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں