خوشیوں سے مزاجاً کوئی یکجائی نہیں تھی
کچھ غم تھے مگر ان سے شناسائی نہیں تھی
پایا اسے ہم نے جسے کھویا ہی نہیں تھا
اور کھو گئی وہ شئے جو کبھی پائی نہیں تھی
ہے یاد بہت تیز چھناکا سا ہوا تھا
پھر دیر تلک کوئی صدا آئی نہیں تھی
چہروں میں بھٹکتی ہوئی اس دل کی طبیعت
بے چین تو کہہ سکتے ہو ہرجائی نہیں تھی
ہم نے تو قسم کھائی تھی بولیں گے نہ تم سے
تم نے تو کوئی ایسی قسم کھائی نہیں تھی
بس دل تھا ہمارا کہ جہاں ڈوب سکے ہم
دل جتنی ان آنکھوں میں بھی گہرائی نہیں تھی
امیر امام
Khushiyon se mizajan koi yakjaai nahin thi
Kuchh gham the magar un se shanaasaai nahin thi
Paya use ham ne jise khoya hi nahin tha
Aur kho gayi wo shay jo kabhi paai nahin thi
Hai yaad bahut tez chhanaka sa hua tha
Phir der talak koi sada aayi nahin thi
Chehron mein bhatakti hui is dil ki tabiyat
Bechain to keh sakte ho harjaai nahin thi
Ham ne to qasam khaai thi bolenge na tum se
Tum ne to koi aisi qasam khaai nahin thi
Bas dil tha hamara ke jahan doob sake ham
Dil jitni un aankhon mein bhi gehraai nahin thi
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں