کس سے رک سکتا تھا جو کار زیاں ہونے کو تھا
رائیگاں ہوتا گیا جو رائیگاں ہونے کو تھا
تم تھے تنہائی تھی لیکن ہم نہ جانے کس لئے
رک گئے ورنہ وہ لمحہ جاوداں ہونے کو تھا
تیرے چہرے پر اترتی ان بہاروں کی قسم
تیری چاہت کا یہ گل نذر خزاں ہونے کو تھا
نام سے منسوب تھا تیرے تو واپس لے گیا
ورنہ وہ آنسو تو اس شب کہکشاں ہونے کو تھا
کیا ہوا جانے کہ پھر کچھ بھی نہ ہو پایا یہاں
ورنہ ہونے کے لئے سارا جہاں ہونے کو تھا
امیر امام
Kis se ruk sakta tha jo kaar-e-ziyan hone ko tha
Raigaan hota gaya jo raigaan hone ko tha
Tum the tanhai thi lekin hum na jaane kis liye
Ruk gaye warna woh lamha jawedaan hone ko tha
Tere chehre par utarti in baharon ki qasam
Teri chahat ka yeh gul nazr-e-khazan hone ko tha
Naam se mansoob tha tere to wapas le gaya
Warna woh aansu to is shab kahkashaan hone ko tha
Kya hua jaane ke phir kuch bhi na ho paya yahan
Warna hone ke liye sara jahan hone ko tha
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں