امیر امام — شاعر کی تصویر

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا
فنا کے رنگ سے ہر رنگ متصل ہوگا
عجب ہے عشق عجب تر ہیں خواہشیں اس کی
کبھی کبھی تو بچھڑنے تلک کو دل ہوگا
بدن میں ہو تو گلہ کیا تماش بینی کا
یہاں تو روز تماشا و آب و گل ہوگا
ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے
ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا
زیاں مزید ہے اسباب ڈھونڈھتے رہنا
ہوا ہے جو وہ نہ ہونے پہ مشتمل ہوگا
تمام رات بھٹکتا پھرا ہے سڑکوں پر
ہوئی ہے صبح ابھی شہر مضمحل ہوگا

Koi khushi na koi ranj mustaqil hoga

Koi khushi na koi ranj mustaqil hoga
Fana ke rang se har rang muttasil hoga
Ajab hai ishq ajab tar hain khwahishein us ki
Kabhi kabhi to bichhadne talak ko dil hoga
Badan mein ho to gila kya tamash beeni ka
Yahan to roz tamasha-o-aab-o-gul hoga
Abhi to aur bhi chehre tumhein pukarenge
Abhi woh aur bhi chehron mein muntaqil hoga
Ziyan mazeed hai asbab dhoondhte rehna
Hua hai jo woh na hone pe mushtamil hoga
Tamaam raat bhatakta phira hai sadkon par
Hui hai subah abhi shehr muzmahil hoga

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام