امیر امام — شاعر کی تصویر

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی
زندہ ہے ایک یاد جو مرتی چلی گئی
تھی زندگی کی مثل شب ہجر دوستو
اور زندگی کی مثل گزرتی چلی گئی
ہم سے یہاں تو کچھ بھی سمیٹا نہ جا سکا
ہم سے ہر ایک چیز بکھرتی چلی گئی
آئے تھے چند زخم گزرگاہ وقت پر
گزری ہوائے وقت تو بھرتی چلی گئی
اک اشک قہقہوں سے گزرتا چلا گیا
اک چیخ خامشی میں اترتی چلی گئی
ہر رنگ ایک رنگ سے ہم رنگ ہو گیا
تصویر زندگی کی ابھرتی چلی گئی

Madhham hui to aur nikharti chali gai

Madhham hui to aur nikharti chali gai
Zindah hai ek yaad jo marti chali gai
Thi zindagi ki misl-e-shab-e-hijr dosto
Aur zindagi ki misl guzarti chali gai
Hum se yahan to kuchh bhi sameta na ja saka
Hum se har ek cheez bikharti chali gai
Aaye the chand zakhm guzargah-e-waqt par
Guzri hawa-e-waqt to bharti chali gai
Ik ashk qahqahon se guzarta chala gaya
Ik cheekh khamoshi mein utarti chali gai
Har rang ek rang se ham-rang ho gaya
Tasveer zindagi ki ubharti chali gai

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام